25 جنوری 2011 - 20:30

چودہ مارچ الائنس کا کہنا ہے کہ حزب اللہ رفیق حریری قتل کیس ٹربیونل کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی ہے جبکہ امریکیوں نے لبنان کی نئي حکومت میں حزب اللہ کے کردار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کا کردار جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر دونوں ممالک کے درمیان رابطہ مشکل ہوجائے گا۔

ابنا: چودہ مارچ الائنس کے ایک رہنما نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ رفیق حریری قتل کیس ٹربیونل کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ یہ بات حزب اللہ کے شدید مخالف امین الجمیل نے کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حزب اللہ رفیق حریری قتل کیس ٹربیونل کو ناکام بنانے کے حوالے سے اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہوگئی ہے۔ یادرہے رفیق حریری قتل کیس ٹربیونل امریکہ اور صھیونی ریاست کی حمایت سے تشکیل پایا تھا اور اس کا ھدف جھوٹے گواہوں کے سہارے حزب اللہ کو رفیق حریری کے قتل میں ملوث قرار دینا تھا۔ ادھر روسی جریدے اودناکو نے رپورٹ دی ہےکہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری صہیونی ریاست کے ڈرون طیارے کی میزائل کے نتیجے مارے گئے تھے۔ حزب اللہ نے بھی حال ہی میں بہت اہم اور ناقابل انکار شواہد پیش کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست ہی رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہے۔دریں اثناء امریکہ نے لبنان کی نئي حکومت میں حزب اللہ کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا۔امریکہ نے لبنان کی نئي حکومت میں حزب اللہ کے کردار پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے کہا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کا کردار جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر دونوں ممالک کے درمیان رابطہ مشکل ہوجائے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان فلپ کراؤلی نے نامہ نگاروں سے کہا ہے کہ امریکہ نئي حکومت کی تشکیل تک کچھ بھی کہنے سے اجتناب کرے گا۔ اس کے ساتھ کراؤلی نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کو لبنان کی نئي حکومت میں حزب اللہ کے کردار پر تشویش لاحق ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کے علاوہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کیس کی عالمی عدالت کی بھی حمایت کا اعلان کیا۔ امریکی وزارت خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں کہ جب لبنانی عوام کی ایک بڑی اکثریت کو اپنے ملک کے داخلی امور میں واشنگٹن کی مداخلت جاری رہنے پر تشویش لاحق ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110